لکھنؤ،2مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اترپردیش کابینہ نے آج جنرل اینڈ سروس ٹیکس( جی ایس ٹی)بل کی منظوری دے دی اور اسے ریاست کی اسمبلی ہاؤس کے آئندہ سیشن میں منظور کرایا جائے گا۔ ایسا کرنے والی وہ پانچویں ریاست ہوگی۔اترپردیش کے شہر ترقی کے وزیر سریش کھنہ نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں آج ہوئی ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے جی ایس ٹی کو منظور کر دیا ہے۔ اسے آئندہ 15 مئی سے شروع ہو رہے اسمبلی ہاؤس سیشن میں منظور کرایا جائے گا۔جھارکھنڈ، تلنگانہ، بہار اور راجستھان کے بعد جی ایس ٹی کو منظور کرنے والی اتر پردیش ایسی پانچویں ریاست ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے سے ریاست میں آمدنی بڑھنے کا امکان ہے، اگر اس کی وجہ سے کسی بھی طرح خزانے پر بوجھ پڑتا ہے تو حکومت اگلے پانچ سال تک اس کی بھرپائی کرائے گی، اگرچہ پٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جی ایس ٹی کو گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں پاس کیا گیا تھا۔ صدر کی منظوری کے لئے بھیجے گئے اس قانون کو آئندہ یکم جولائی سے لاگو کئے جانے کا ارادہ ہے۔ملک کے ٹیکسیشن نظام میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھے جا رہے جی ایس ٹی سے اشیاء اور خدمات کے لئے ٹیکس نظام میں یکسانیت آئے گی۔ جی ایس ٹی قریب 10 سال پہلے لاگو کئے گئے وی اے ٹی کی جگہ لاگو کیا جائے گا۔ وی اے ٹی سے پہلے کامرس ٹیکس کی وصولی کی جاتی تھی۔قریب 10 سال سے تیار کئے جا رہے جی ایس ٹی کو آزادی کے بعد ملک کے سب سے بڑے ٹیکسیشن اصلاحی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس میں مرکزی آبکاری ٹیکس، خدمات ٹیکس اور وی اے ٹی اور دیگر مقامی لیوی کو شامل کر دیا گیا ہے۔مانا جا رہا ہے کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ملک کی اقتصادی ترقی میں بھی ایک سے دو فیصد تک اضافہ ہوگا۔